24 فروری 2012 - 20:30

یہ17 فروری بروز جمعہ کو طالبان دہشتگردوں کے مبینہ خودکش حملے اور اس کے بعد ان درندوں کی سرپرست سکیورٹی فورسز کی شیلنگ اور ٹینکوں سے کچلے جانے والے مظلوم شہدائے پاراچنار میں سے چند شہداء کی تصاویر ہیں۔

ابنا: طوری بنگش قبائل کے مطابق کہ چار سال تک جب پاراچنار شہر اور اپر کرم کی سکیورٹی شیعہ رضاکاروں کے ہاتھ میں تھی تو کوئی دھماکہ یا حملہ نہیں ہوا، چند ماہ پہلے جب ان چیک پوسٹوں پر رضا کاروں کی جگہ ملک کا بیشتر بجٹ ہڑپ کرنیوالی سکیورٹی فورسز تعینات ہوئیں، تو اتنا بڑا سانحہ رونما ہو گیا۔ عوامی و سماجی حلقوں کے مطابق اس طرحکا بڑا دہشتگردانہ حملہ ریاستی دہشتگردی کے زمرے میں آتا ہے۔

 

 

........

/169